اُردو

حمد

حمد (مظفر وارثی)
<div class="verse">کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے</div>
<div class="verse">تلاش اس کو نہ کر بتوں میں وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں</div>
<div class="verse">وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب سفر کریں سب اسی کی جانب</div>
<div class="verse">کسی کو سوچوں نے کب سراہا وہی ہوا جو خدا نے چاہا</div>
<div class="verse">نظر بھی رکھے سماعتیں بھی وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی</div>
<div class="verse">کسی کو تاج وقار بخشے کسی کو ذلت کے غار بخشے</div>
<div class="verse">سفید اس کا سیاہ اس کا نفس نفس ہے گواہ اس کا</div>
<div class="verse">دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آ رہا ہے وہی خدا ہے</div>
<div class="verse">جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے وہی خدا ہے</div>
<div class="verse">ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے وہی خدا ہے</div>
<div class="verse">جو اختیار بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے وہی خدا ہے</div>
<div class="verse">جو خانۂ لا شعور میں جگمگا رہا ہے وہی خدا ہے</div>
<div class="verse">جو سب کے ماتھے پہ مہر قدرت لگا رہا ہے وہی خدا ہے</div>
<div class="verse">جو شعلۂ جاں جلا رہا ہے بجھا رہا ہے وہی خدا ہے</div>

(مظفر وارثی)